اسماء سہیل کے پی کے

اسماء سہیل کے پی کے

بعض اوقات آنکھوں سے محرومی انسان کو کبھی بھی آگے نہیں بڑھنے دیتی بلکہ ساری زندگی معذور اور آنکھوں سے محروم انسان کا طعنہ سننے کو ملتا ہے مگر ہمت والے لوگ ہی ہنر مند پاکستان کا ترجمان بنتے ہیں۔ ایسی ہی ایک لڑکی جس نے بن دیکھے اپنے رستے آپ بنائے ہیں۔
یہ کہانی ہے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک گاؤں کی ہنر مندبیٹی اسما سہیل کی، جن کی بینائی بچپن سے ہی ان سے ناراض ہونا شروع ہوگی تھی اور اب یہ آنکھوں کی روشنی سے مکمل محروم ہوگی ہے لیکن انھوں نے اس کمزوری کو اپنی تعلیم جاری رکھنیسے محروم نہیں رکھا۔انہوں نے کالج کی تعلیم مکمل کر نے بعدیونیورسٹی آف صوابی میں لاء کی ڈگری میں داخلہ لیا اور ہر سمسٹر کی ٹوپر رہی ہیں اور اسماء اس بات کی پور ی امید رکھتی ہیں کہ نہ صرف آنے والے سمسٹر میں بلکہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیابیاں سمٹے گی۔

اسماء سہیل کے پی کے
اسماء سہیل کے پی کے

اسماء سہیل کے پی کے

بچپن سے ہر کلاس میں ٹوپ کرنی والی اسماء کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ان کی آنکھوں کی بینائی اس طرح ان سے خفا ہوجائے گی مگر اس ہنر مند بیٹی نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور زندگی کا ڈ ٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھ اکہ میں نے کچھ وقت کے لئے نظر کی عینک بھی لگائی مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ کھیل بہت بے حناک ہوتاگیا مگر قدرت کا کھیل دیکھے کہ جوں جوں میری بینائی جاتی رہی میرا حوصلہ اور بڑھتا گیااور میں نے میٹرک کا امتحان اے پلس سے پاس کیا۔
نیلسن منڈیلاسے متاثر ہونے والی اسماء نیلسن منڈیلاکی اس کہاوت کہ تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے دنیا کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور وقت کا تقاضا دیکھیے کہ اسماء اس کی تفسیر بن کے سامنے آئی ہے۔ان کا کہنا ہے میں اپنی معذوری کو اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں کہ اللہ نے مجھے اس آزمائش کے لئے چنا اور میں اس پر پورا اتررہی ہو ں۔
اسما ئکے مطابق ان کے گھر والوں کی سپورٹ ان کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے اور ان کا پورا خاندان ان پر فخر محسوس کرتا ہے۔ان کے گھر واے ان کو یونیورسٹی سے گھر لے کر آنے سے یونیورسٹی چھوڑنے تک ان کے گھر والے ان کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملاکے چلتے ہیں۔
اپنی فیملی کے بارے بتاتے ہوئے انہوں نے بتا یا کہ ان کی والد بھی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور اسی وجہ سے اسماء نے بھی وکالت کی ڈگری کا انتخاب کیا۔بدلتے وقت کیساتھ ساتھ اسماء کا حوصلہ اور بھی بڑھ رہا ہے جو انہوں ایک نئی روشی کی طرف گامزن کر رہا ہے۔ ان کا یہ ہی جذبہ ان کو ایک دن ہنر مند پاکستان کے روشن چہرے کی دلیل ثابت کروائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں