رمل اعجاز کھوٹ کی فوٹو گرافر

رمل اعجاز کھوٹ کی فوٹو گرافر

کوہاٹ کی یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری کرنے والی پاکستان کی ہنر مند لڑکی رمل نے پڑھائی کے دوران ہی شادیوں بیاہوں کی فوٹوگرافی کاکام شروع کر دیا تھا۔
رمل نے بتایاکہ یہفن انھیں اپنے والد سے ملا۔ ان کے والد خاندان میں شادی بیاہ کی تقریبات میں تصویریں کھینچتے تھے اور ان کے پاس نت نئے کیمرے ہوتے تھے جن کو دیکھ کر رمل کا شوق بڑھتا رہتا تھا۔

رمل اعجاز کھوٹ کی فوٹو گرافر
                                                 رمل اعجاز کھوٹ کی فوٹو گرافر

تھوڑے عرصے بعد جب رمل کے بھائی نے فوٹوگرافی کا کام شروع کیا تورمل کے بھی رستے کھولنے لگے۔
رمل کا کہنا ہے کہ سٹارٹ میں اُنہوں نے اپنے بھائی کے کیمرے سے کام شروع کیا مگر پھر ان کے پاس اپنا کیمرہ آگیا۔رمل تقریبا ڈھائی سال سے فوٹوگرافیکے  ہنر سے منسوب ہیں،اس وقت کوئی بھی لڑکی یہ کام نہیں کر رہی تھی۔ اس ضرورت کو پورے کرتے ہوئے جب رمل نے یہ کام شروع کیا تو علاقے کے لوگوں نے ان کی بہت حوصلہ افزائیکی۔وہاں کے لوگ اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ اب ان کی شادی بیاہ پر ایک خاتون فوٹو گرافی کریں گی اور ان کی گھروں کا ڈیٹا محفوظ رہے گا۔

رمل اعجاز کھوٹ کی فوٹو گرافر

اس حوالے سے رمل کہناہے کہ جب وہ شادیوں کی فوٹوگرافی کے لیے جاتیں تو کچھ تقریبات میں مرد انہیں بُری نگاہ سے بھی دیکھتے تھے مگر ان کے والد کا حوصلہ ہمیشہ ان کی طاقت بنا رہا۔رمل کا کہنا ہے کہ اں نہوں نے دس لاکھ سے یہ کام شروع کیا اس کام میں ان کی والد ین نے ان کی بہت مدد کی اور ان کے ساتھ اکثر شوٹ پر جاتے ہیں۔جب وہ شوٹ سے واپس آتی ہیں تو ان کے والدین بہت خوش ہو کے پوچھتے ہیں کہ آج کا شوٹ کیسا رہااور یہ بات رمل کو آگے بڑھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔
رمل کوجرنلزم کا بھی شوق ہے اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے وہ فری لانسیگ بھی کرتی ہیں۔ جس میں رپوٹنگ اور فوٹوجرنلزم بھی شامل ہے آج کل وہ نسٹ یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رہی ہیں۔
رمل کہتی ہیں کہ کبھی کبھی ان کو کوہاٹ اور اسلام آباد میں سب خود مینج کرنا مشکل لگتا ہے لیکن وہ کبھی بھی اپنا حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیتی۔
انھوں نے لڑکیوں کو پیغام بھی دیا کہ آگے بڑھنے کے لییمحنت کریں اور آگے بڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں