سلیم غوری کی شخصیت

سلیم غوری کی شخصیت

دو لفطوں میں بتائے کہ سلیم غور ی کون ہے؟ نہ کہ سی ای او آف نیٹ سول؟
سلیم غور ی ایک بڑی سوچ کا بندہ ہے جس نے ہمیشہ زندگی کے ہر مشکل تیرین وقت کو ہنستے ہوئے قبول کیا ہے اور ہمیشہ نئے اور ہنر مند لوگوں کی تلاش میں رہا ہے۔میں اپنے مُلک کو انفارمیشن کی دُینا میں سب سے آگے دیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے اپنی زندگی میں بہت سامشکل وقت دیکھا ہے میں اسی لئے نوجوانوں سے بہت شوق سے ملتا ہوں تاکہ اُنہوں بتا سکوں کہ اگر زندگی میں کچھ بننا ہے تو ان سب مشکلات کا سامنا ہنستے ہوئے کرو۔اگر مجھے کبھی سکول، کالج سے کوئی دعوت آتی ہے ضرور بچوں سے ملنے کے لئے جاتا ہو ں تاکہ اُن کو بتا سکوں کہ سب کچھ ممکن ہے اگر تم چاہو۔
آپ کا بچپن کیسا تھا اور کہاں گذرا؟
میں بہاولپور میں پیدا ہوا۔ میں نے اپنی گریجویشن ایف سی کالج سے مُکمل کی اُس کے بعد میں اپنی باقی تعلیم مُکمل کر نے کے لئے ملک سے باہر چلاگیا اور وہاں سے پیڑولیم انجییرنگ کی ڈگرٰ ی لی،مگر میرا شوق مجھے ای آٹی کی دینا میں لے آیاشروع میں میرے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ میں اتنی وسیع کاروبا ر کر سکوں۔میرے صر ف دو پینٹ کوٹ تھے جو پہن کر لوگوں کے پاس جا تا تھا کہ میں ای آٹی سروسز دیتا ہوں تو آپ میر ی کمپنی کی سروسزاستعمال کریں مگر کئی دن گذر جاتے تھے کوئی کال نہیں آتی تھی میر ے اس مشکل وقت میں میر ی اہلیہ نسرین غوری نے میرا بہت ساتھ دیا۔مگر آج میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں کہ میر ی کمپنی پاکستان کا ایک پوزیٹو امیج دنیا کے سامنے لے کر آتی ہے۔

سلیم غوری کی شخصیت

اپنی فیملی کو کتنا ٹائم دیتے ہیں اور آپ کی کامیابی میں آپ کی فیملی کا کتنا ہاتھ ہے؟
یہ قانون قدرت ہے کہ جب آپ بھی کوئی بڑا کا م کرنے جاتے ہو تو آپ کو بہت سی چیزوں، رشتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے نہ تو آپ اپنی فیملی کو وقت دیں پاتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذات کواسی طرح میر ے ساتھ بھی ہوا مگر میری فیملی ہمیشہ میرے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اس ساری صورت حال کی وجہ سے میری بیگم نے میرا بہت ساتھ دیا وہ ہمیشہ مجھے کہتی تھی کہ سلیم آپ ایک دن ضرور اپنے مقصد میں کامیا ب ہوں گئے۔ اللہ ے مجھے دو بیٹیوں کی نعمت سے نوازا ہے۔ اپنی منزل کو پانے کے لئے میں نے بہت سی چیزوں کی قربانی دی ہے۔میر ے اس سفر میں میر ے بھایؤں نے سایہ بن کر میر ے ساتھ دیااسی لئے اپنے بھایؤں کو فور جی ٹیکنالوجی کہتا ہوں۔
آپ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو فنڈز د ئیے تھے کیا آپ اپنے کاروبا ر کو مستحکم کر نا چاہتے تھے یا کوئی اور وجہ تھی؟
(ہنستے ہوئے)۔ میں نے ہرگز پاکستان مسلم لیگ (ن) کو فنڈز کاروبا ر کو مستحکم کر نے کے لئے نہیں دئیے تھے میں ہر اس بندہ کو سپورٹ کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا جو میر ے ملک کی بہتری کے کام کرئے گا نہ کہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے۔ میر ے لئے ہر وہ پارٹی معتبر ہے جو میرے ملک کے لئے اور خاص طور پر میرے ملک کے نوجوانوں کے لئے کام کریں۔
آپ کا لوگوں کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟
مجھے لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے۔ میں نے ہمیشہ لوگوں کو عزت دی ہے چاہے کوئی امیر ہے یا غریب اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے اخلاق کی وجہ سے میر ے رب نے مجھے سی نعمتوں سے نوازا ہے میں اپنی کمپنی میں کام کرنے والے لوگوں سے ایسے ہی ملتا ہوں جیسے میں اس ملک کے وزیراعظم سے ملتا ہوں۔
اگر آج کا سٹودنٹ کا اپنی آئی آٹی کی کمپنی بنانا چاہتا ہے تو آپ اُسے کیا نصحیت کرئے گئے؟
سٹودنٹس کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے کسی آئی آٹی کمپنی میں انٹرشپ کرئے تاکہ اُسے پتہ چل سکے کہ کیسے بزنس آتا ہے۔ ایک اچھا کاروبار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تین اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے، ٭اپنے کسٹمر ز کو کیسے ڈیل کرنا ہے
٭ اپنے پیسے کو استعمال کر نا ہے تاکہ وہ کسی بڑے نقصان سے بچ سکے
٭ سب سے اہم پوائینٹ کہ اپنے کام کو کیسے بہترین مقام پر لے کر جانا ہے
آج کے دور میں بچہ جب سکول سے نکلتا ہے تو اسے آئی آٹی کی بنیادی انفارمیشن ہوتی ہے تو سٹوڈنٹس کو چاہیے کہ کا لج لیول سے ہی اپنا کام شروع کردیں تاکہ وہ جب اپنی کام شروع کر ئے تو اسے کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑئے۔ اور سب سے اہم بات کے کبھی بھی جلدی پروفٹ کمانے کی نہ سوچے وقت کے ساتھ آپ کا نام ہوگا اور پیسہ بھی آئے گا۔
کوئی پیغام جو آپ ہنر مند نوجوانوں کو دینا چاہتے ہیں؟
سب سے پہلے اپنے کام سے پیا ر اُس کے بعداپنی نیت کو صاف رکھیں کیونکہ جب آپ کی نیت صاف ہو تی ہے اللہ کی مد د آپ کے ساتھ ہوتی ہے اور اپ ایک نہ دن ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔ اور سب بڑھ کر اپنے ماں باپ کی دُعا لیا کریں کیو نکہ آپ کی ڈگریاں ایک طر ف ماں باپ کی دُعایئں ایک طرف۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سلیم غوری کی شخصیت” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں