سید بلال قطب کی شخصیت

سید بلال قطب کی شخصیت

ہم نے سنُنا ہے کہ آپ کے پاس جنات ہے اور آپ لوگوں کا مستقبل بھی بتا دیتے ہیں؟

میں تو اپنا مستقبل نہیں بتاسکتا تو لوگوں کا کیسے بتا سکتا ہوں اور جہاں تک بات جنات کی ہے تو یہ میر ے بارے میں غلط تاثر ہے کا ش کہ میرے پاس جنات ہوتے تو میں اپنی خواہثات پوری کروالیتا۔اصل میں ہمارے معاشر ے میں تعلیم کی کمی ہے اس لئے لوگ اس طر ح کی باتیں کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ جس شخص نے دین کے بارے میں چار باتیں کرلی لوگ اُ سے عالم دین سمجھنے لگتے ہیں۔

سید بلال قطب کی شخصیت

کسی کو کسی کا مستقبل بتا دینا حلال ہے یا حرام؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ان سب بکواس باتوں پر دھیان تو دیتے ہیں مگر  350 روپے کی حدیث کی کتا ب نہیں لیتے۔ جب اللہ جی نے قرآن پاک میں ہر چیز(حلال ہو یا حرام) کا بتایا ہے تو پھر کا چیز کا شک ہے مگر جو معاشرہ شراب، ناچ گانے کوحرام نہیں سمجھتا وہ اللہ کے احکامات کو کیا ماننے گا۔جب بنک میں رکھیں پیسے پہ سود لینا ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا تو حلال ہو یا حرام ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تصوف اوراسلام میں کیا فرق ہے؟
تصوف اوراسلام میں فرق (آی اور ٹی) کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ دیکھا جائے تو دونوں ہی امن کا پیغام دیتے ہیں۔ اور جہاں تک بات امن کی ہے تو امن ہر مذہب ہے چاہے ہندوازم ہو کوئی بھی مذہب ہو ضرورت صرف سمجھنے کی ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں اور کیا سوچ اپنی آنے والی نسل میں پیدا کرتے ہیں۔
بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ  آپ  مستقبل بدل سکتے ہیں یالوگوں کو بتاتے ہیں کہ آپ کا یہ کام کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ چیز اب ہمارے لائف سٹائل کا حصہ بن چکی ہے شاید ہم اس کام کے بغیر نہ ہی تو رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان دو نمبر لوگون کا دامن چھوڑنا چاہتے ہیں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں مگر حقیت میں دو نمبر بابے ہیں۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔
درباروں پہ جا کے سجدہ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
ہماری ماں، بہن شادیوں پر ڈانس کرسکتی ہیں ہم اُسے جائز سمجھتے ہیں اور دربا ر پر جاناناجائز، اللہ جی کے نیک لوگوں یا دلی کے در پہ جانا ہو تو کفر کی فتوے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اللہ جی کے نیک لوگوں یا دلی کے وسئلے سے مانگنا ہمارے لئے سب سے بڑا گناہ اگر یہ گناہ ہ تو ہے تو بیٹی کا باپ کا اور ماں کا بیٹے کے ناچنا کیا ہے شاید اس کا جواب وہ لوگ زیادہ بہتر دیں سکتے ہیں جوآزاد خیال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
سیدہ طیبہ خانم بخاری بہت بڑی سکالر ہیں مگر اُن پر انتے الزامات کیوں؟

میں سمجھتا ہوں کہ سیدہ طیبہ خانم بخاری اس معاشرے کے مردوں کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ لوگوں کو اکژ اُن کے میک اپ پر اعتراض ہوتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میک اپ عورت کے لئے ہے نہ کہ مرد کے لئے۔ سیدہ طیبہ خانم بخاری ناڈر خاتون ہے جو اکیلی اس معاشر ے کے مردوں کا مقابلہ مردو ں سے بہتر کر رہی ہے اس عورت کی کوئی بات قرآن ے باہر نہیں ہوتی وہ ایک جرات مند خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوش شکل ہیں عورت خوش شکل بھی ہو اور پورا قرآن بھی یاد ہو تو سونے پہ سُہگاہ ہے۔
کوئی پیغام جو آپ یوتھ کو دینا چاہتے ہیں؟
بس دل لگا کر پڑھے اور پڑھ لکھ کر اپنے ملک کی خدمت کریں نہ با ہر جا کر گوروں کی غلامی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں