شوگر کا علاج

شوگر کا علاج

انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو قابورکھنے کا باعث بنتا ہے،شوگر کے مریضوں میں خاطر خواہ ہارمون نہیں بنتے جس کے لیے و ہ انسولین کے ٹیکے لگاتے ہیں لیکن ایک بڑ ی خبر یہ ہے کہ ماہرین نے بہت کم خرچ اور مؤثر طریقے سے انسولین تیار کرنے کا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کا اہم مر کب انڈے کی زردی ہیں۔

شوگر کا علاج

لیکن موجودہ انسولین کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر اسے ایک خاص ٹمیریچر میں نہ رکھا جائے تو اس کے اندر شامل اجزا ریشے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں یہ عمل مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے خاص طورپر ایسے مریضوں کے لیے جو کسی پمپ کے ذریعے انسولین کا استعمال کرتے ہیں۔
فلورے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر اختر حسین اور ان کیٹیم نے انڈے کی زردی کے بعض اجزا کواس طریقے سے ملایا ہے کہ اس سے انسولین کے ریشے بننے کا خطرہ نہیں رہتا ہے۔ اس طریقے کو ماہرین نے اس طریقے سے تیا ر ہونے کے عمل کو مصنوعی انسولین کا نام دیا ہے۔انسولین پمپ میں فائبرلس کا مسئلہ بہت زیادہ نظر آتا ہے اور اس کے لوتھڑے مریض کو موت کے قریب بھی کرسکتے ہیں۔انڈے کی زردی میں شکریات ہوتی ہے جس کی وجہ اس کے سالمات کو انسولین کے مالیکیول میں رکھا گیا ہے۔ اس سے جو شے وجود میں آئی ہے اس کا نام’گلائکو انسولین‘ رکھا گیاہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ اس طریقے سے تیار ہونے والی ویکسین دو سے چھ روز تک محفوظ رہے گی اور سالانہ دو ارب ڈالر کی بچت ہوگی کیونکہ صرف امریکا میں ہی تین لاکھ سے زائد افراد انسولین استعمال کر نیوالے ہیں۔ڈاکٹر اختر اور ان کی ٹیم اس ابتدائی تجربات نہایت حوصلہ افزا رہے ہیں اور پر امید ہیں کہ یہ شوگر کے مریضوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں