میاں یوسف صلاح الدین کی شخصیت

میاں یوسف صلاح الدین کی شخصیت

آپ کا بچپن کیسا تھا اور کہا ں گذارا؟
میرا بچپن اندرون لاہور جاوید منزل میں گزرامگر زیادہ ٹائم حویلی میں گذرتا تھا۔ میں بچپن میں بہت زیادہ شرراتی تھا ہم سارے اکٹھے ایک ہی گھر رہتے تھے اور میں خوش قسمت ہوں کہ اپنے بزرگوں سے بہت کچھ سکھنے کو ملا۔میں شاید اپنی خوشی قسمتی سمجھتا ہو ں کہ مجھے صوفی تبسم، حفیط جالندھری اور فیض احمد فیض سے بہت کچھ سکھنے کا موقع ملا ان سب کے ساتھ ساتھ میر ے ماں باپ نے میر ی تربیت اقبالؒ کے نظیرے کے مطابق کی۔

آپ نے تعلیم کہاں سے لی؟
میں نے گورنمنٹ کالج سے انٹرکیا اور ایچیسن کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی میر ے کالج کے بہت پیارے تھے آج بھی اُن کو یاد کر کے اکژ اُداس ہوجا تا ہوں۔

بچپن میں کتنی ڈانٹ پڑی؟
مجھے بچپن میں بہت ڈانٹ پڑی خاص طور پر اپنے والد صاحب سے۔

آپ کا گلا تو سریلا نہیں مگر آپ کے کان بہت ہیں آپ نے اتنے گلوکار وں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ہے کون سا سنگر آپ کے دل کے قریب ہے؟
حنانصراللہ، صنم ماروی، راحت فتح علی خاں میر ے پسنددہ سنگر ہے شاید ان سب کی آوازیں دھرتی سے جوڑی ہیں اور ان سب کی آوازوں میں ایک جادو سا ہے جو سننے والا کو اپنی طرف کھنچتا ہے۔

اپنی فیملی کو کتنا ٹائم دیتے ہیں؟
میں شام اپنی فیملی کے ساتھ ہی گذرتا ہوں۔ اگر میری بہت سی کمزوریا ں ہیں تو ان میں سے ایک میری فیملی ہے۔ اللہ جی نے مجھے بیٹے اور بیٹی کی نعمت سے نوازا ہے۔ اولاد جیسی بھی ہو ماں باپ کے لئے سب کچھ ہو تی ہے مگر میرا زیادہ پیار میر ی بیٹی سے ہے۔

آپ موسیقی کے دیوانے ہیں کیا آپ نے خود بھی گانا سیکھا ہے؟
نہیں، بالکل نہیں یہ سب خداداد صلاحیتں ہیں۔ میں اس نوجوان نسل کو اقبال اور غالب کے نظیر ے سے متعارف کروانا چاہتا ہوں میرا پروگرا م ور ثہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ورثہ کی وجہ سے بہت سارہ نیا اور چھپا ہوا ٹیلنٹ سامنے آیا جو آج بہت بڑے بڑے نام بن چکے ہیں۔

میاں یوسف صلاح الدین کی شخصیت
                                                                              میاں یوسف صلاح الدین کی شخصیت

میاں یوسف صلاح الدین کی شخصیت

انڈیا میں اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بارے میں آپ کیا کہے گئے؟
انڈیا میں اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کے بارے جب بھی دیکھا یا سنا دل ہمیشہ پھٹا ہے وزیراعظم جناب عمران خان نے جو بین الاقومی سطح پر کشمیر کے حق مین آواز اُٹھائی ہے ا س کی تاریخ نہیں ملتی مگر افسوس کہ جو پاکستا ن میں ہو رہا ہے کبھی شعیہ سنی اختلاف، سانحہ یوحنا آباد، آرمی پبلک سکول اور بہت سارے واقعات جن کو یاد کر کے آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے مگر مجھے پورا یقین ہے کہ انشااللہ جس کا خواب اقبال، قائداعظم نے مل کے دیکھا اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے نبیﷺ نے چودہ سو سال پہلے اس بات کی شہادت تھی کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہے انشااللہ ایک دن پاکستان ویسا ملک ضرور بنے گا۔

کھا نا کانے کا شوق تو ہوگا کیا کھانے بنانے کا شوق بھی ہے؟
بالکل میں بہت شوق سے کوکنگ کر تا ہوں جب بھی مجھے ٹائم ملے۔

آپ نے ہیر رانجھا ایک با ر پھر سے متعارف کروایا اس کی کیا وجہ تھی؟
میں نے ڈرامہ انڈسٹر ی میں ایک ینا ٹریند متعارف کیا یہ واحد ڈرامہ تھ اجس میں موسیقی کی وجہ سے چار چاند لگے۔میری کوشش ہمیشہ رہی ہے کہ میں اپنے ورثے کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور جب تک زندہ ہوں نوجوان نسل کو اقبا ل کی تعلیمات اور اپنے ورثے کو زندہ رکھنے کی تلقین کرتا ہوں گا۔

کوئی پیغام جو آپ ہنر مند نوجوانوں کو دینا چاہتے ہیں؟
میں ہمیشہ نوجوان نسل کو ایک ہی پیغام دیتا ہوں کہ اپنے آم کو پہچانے اور اپنی ہمت خود بنو تاکہ ایک کامیاب زندگی گذار سکوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں