میرے پاس تم ہو پارٹ ٹو

میرے پاس تم ہو پارٹ ٹو

پاکستان کی ہسٹری کا واحد ڈرامہ میرے پاس تم ہو نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ٹرینڈ ہی بدل دیا ہے آج سے کم از کم دس سال پہلے پاکستان ٹیلی ویثر ن کے ڈرامے اس طرح شوق سے دیکھے جاتے تھے اور لوگوں کو شدت سے ان ڈراموں کا انتظار رہتا تھا اور سڑکیں خالی ہوجاتی تھیں۔

میرے پاس تم ہو پارٹ ٹو

اس ڈرامے کے رائیٹر خلیل الرحمن قمر نے شاید اس ڈرامے میں کسی عورت سے انتقام لیا ہو۔ اس ڈرامے کے حوالے سے جب بھی خلیل صاحب سے بات ہوئی یا ان کا کوئی بھی ٹی وی انٹرویو دیکھا گیا تو انہوں نے ہمیشہ عورت ذات سے ناراضگی کا اظہار کیا مگر نہ جانے کیوں؟ ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے کی کہانی انہوں نے کسی سے متاثر ہو کے لکھی ہے بقول ان کے کہ انہوں نے بہت سے ایسے جوڑوں کو دیکھا ہے جو ایک دوسرے سے بے وفائی کرتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جب ایک شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد سے تعلقات بناتی ہے تو ڈٹ کے بات کرتی ہے کیونکہ اسے بھروسہ ہوتا ہے کسی دوسرے مرد کا۔
اگر ایک نظر خلیل صاحب کی زندگی پر ڈالی جائے تو ان کی زندگی اس طرح کی رنگینوں سے بھر ی ہوئی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ انہی کی کہانی ہو۔ ڈرامہ صدقے تمہارے بھی ان کی زندگی کی اپنی کہانی تھی جیسے سناتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئے تھے۔
خلیل الرحمن قمر کی زندگی بہت تنگدستی اور غربت میں گذاری انہوں نے ہمیشہ ڈرامہ اپنی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے لکھا۔ ڈرامہ میرے پاس تم ہو کے ہر کردار نے اس ڈرامے میں اپنا اپناکردار دل سے نبھا یا ہے چاہے تو دانش عرف ہمایوں سعید ہو یا پھر رومی سب نے اپنے اپنے حصے کا کام دل سے کیا اور اس ڈرامے کو جان بخشی ہے۔

پاکستان ڈرامہ انڈسٹر ی کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ڈرامہ اپنی قسط سے لے کر آخری قسط تک سوشل میڈیا میں ٹرینڈنگ میں رہا ہے۔اس ڈرامے کی آخری قسط نے تو بڑے بڑے مرد حر کے دل رکھنے والوں رُولا ڈالا ہے اور جہاں تک خواتین کی بات ہے تو شاید وہ ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آئیں کہ دانش مر گیا۔
اب اگر اس آرٹیکل کو اس با ت پر ختم کیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس ڈرامے کا پارٹ ٹو بھی پیش کیا جائے کیا اور اس پارٹ میں دانش بھی نیپال کے لونڈوں کی طرح زندہ ہو کراپنے گھر کو واپس آجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں