میڈیسن کی پہچان کر نے والی ایپ تیار

میڈیسن کی پہچان کر نے والی ایپ تیار

پاکستان کے ہونہار طالب علموں سے مقابلہ کر نا ایسے ہے جیسے عقاب سے مقابلہ کرنا .پاکستانی کے ہنر مند نوجوانوں نے جعلی ادویات کی پہچان کرنے والی موبائل ایپلیکشن تیار کرلی۔ایک چینل کے مارننگ پروگرام میں اس ایپ کے موجداقصیٰ اختر اور محمد اویس نے ایپ کے حوالے سے آگاہ کیا بلکہ اس کواستعمال کر نے کا طریقہ بھی بتایا۔

میڈیسن کی پہچان کر نے والی ایپ تیار

اس ایپ کو گوگل پلے سٹور سے ڈوانلوڈ کیا جا سکتا ہے اس کا استعمال بالکل ایک کیمرے کی طرح ہوتا ہے ۔
پاکستان کی ہنر مندبیٹی ا قصیٰ اختر نے بتایا کہ یہ ایپ ادویات کے ڈبوں پر بنے والے بار کوڈ کو اسکین کرنے کے بعد دوا کے جعلی، ختم شد تاریخ کا بتاسکیں گیا۔

ان کامزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ادویات بنانے والی کمپنیاں بار یا کیو آر کوڈ کا استعمال نہیں کرتیں، صرف

https://www.facebook.com/arynewsasia/videos/2382451475403423/

10 فیصد ادویات کے ڈبوں پر کیو آر کوڈ موجود ہیں جن کو اسکین کر نے کے بعد ہی دوا کی اصل شناخت ہو سکتی ہے۔
ایپ میں کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے بعد تین طرح کیاایس ایم ایس آئیں گے۔
اگر دوا اصلی حالت میں ہوگی تو ویری فائیڈ لکھا آئے گا۔
اسی طرح اگر دو ا جعلی حالت میں ہوگی تو اس پر غیر مصدقہ لکھا آجائے گا۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ دوا ویری فائیڈہوگی مگر اس کے استعمال کی تاریخ ختم ہوجائے گی تو اس کا بھی پیغام آجائے گا۔
نوجوان طلبہ نے بتایا کہ وہ میڈیسن بنانے والی بڑی بڑی کمپنیوں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کر نا چاہتے ہیں جہاں تمام ادویات کا ڈیٹا موجود ہو اور پھر اسے ایپ سے جوڑ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے یہ ایپ ابھی آزمائشی طور پر متعارف کرائی ہے انشااللہ مستقبل میں اس کام کو بڑھائیں گے تاکہ عوام کودونمبر ادویات بنانے والوں سے بچا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں