پروین سرور

پروین سرور

عورت کی اصل کہانی اس وقت شروع نہیں ہوتی جب وہ ما ں بنتی ہے بلکہ اس کی اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کی تر بیت کرتی ہے۔ اللہ جی نے عورت کو مرد سے زیادہ طاقت ور بنایا ہے مگر شاید یہ بد قسمتی ہی ہے کہ یہ معاشرہ عورت کو ہمیشہ مردوں سے کم تر سمجھتا ہے کبھی تو وہ ماں کے روپ میں تڑپتی ہے تو کبھی بہن بن کے بھائی کے لئے قربا ن ہوتی ہے اور کبھی بیوی کے روپ میں اپنے شوہر کا ظلم وستم برداست کرتی ہے۔

پروین سرور

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے عورت کو جو مقام دیا ہے اس کا اندازہ شاید ہمیں ہو مگر نہ جانے کیوں ہم اس حقییت سے انکاری ہیں مگر اب وقت بدل رہا ہے مردوں کے اس معاشرے میں عورت اپنی پہچان بنانا بھی جانتی ہے ۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین نے میدان مارا ہے اور پاکستان کا نام روشن کرکے وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ جیسے فقروں کو مزید چارلگائے ہیں۔
لفظ پروین کے معنی ستاروں کے جھرمٹ ہے جب بھی ستارو ں کی بات ہوتی ہے تو ذہن میں روشنیوں کا تصور چم چما نے لگتا ہے۔ یہ کہانی بھی ایک ایسی ہی خاتون کی ہے جس کا نا م پروین سرور ہے۔ پروین سرور صاحبہ ایک نیک دل خاتون ہے جو پاکستان کی ہر بچی کو ہنر مند بنا نا چاہتی ہیں پروین صاحبہ کا شمار ان خواتین میں ہو تا ہے جو لائم لائٹ میں رہنے کی بجائے درویشی کی زندگی گذارنا چاہتی ہیں ساری زندگی ملک سے باہر گذاری مگر دل ہمیشہ پاکستا ن کے لئے ڈھرکا۔ان کا خواب ہے کہ ایک دن پاکستان دنیا کے سارے ممالک کے لئے ایک روشن مثال ہوگا۔ لوگ انہیں زیادہ ترگورنر پنجاب چوہدری سرور کی اہلیہ کے تعارف سے جانتے ہیں جبکہ اس ہنر مند خاتون کا ایک اور بھی تعارف ہے جس کو ہنر گا ہ کہتے ہیں۔

ہنر گاہ ایک ایسی درس گاہ جہاں پاکستان کی خواتین کو برسرروزگار بنانے کے لئے مختلف قسم کی تر بیتی پروگرام ہوتے ہیں جہاں پنجاب کے دیہاتی علاقوں کی بچیوں کو برسر روزگار بنایا جاتا ہے اب ایک نظر ذرا اس ہنر گاہ میں ہونے والے پروگرامز کی طرف ڈالتے ہیں۔ دیہات سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو ملبوسات کی ڈائیز یننگ، زیورات کے ڈائیزینز، دلہن کے لہنگے کی ڈ ائیز یننگ اور کمپیوٹر ڈائیز یننگ کی تر بیت دی جاتی ہے۔پروین سرور کے بنائے ہوئے اس ہنر گاہ میں تقربیا دس ہزار بچیاں برسر روزگار ہوچکی ہیں اور ان کے بنائے ہوئے ڈایزین اب دکانوں میں بھی دستیاب ہوتے ہیں جن کی فروخت سے ان ہنر مند خواتین کے گھر وں کا چھولا جلتا ہے۔ ہنر گاہ ہر ماہ تقربیا ایک ہزار خواتین کو روزگار کے ہنرسکھاتا ہے اور یہ تعداد اروز باروز بڑھ رہی ہے اور انشااللہ بہت جلد ہنر گاہ پورے پاکستان میں بیٹیوں کو برسر روزگار کر ئے گا۔ ہنر گاہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے شام کے وقت بھی خواتین کی کمپیوٹر کلاسز کا آغاز ہوچکا ہے۔

ہنر گاہ نے سرور فاوئڈیشن کے ساتھ مل کر بہت سارے میڈیکل کیمپ میں کام کیا جس کی وجہ سے د یہات کے لوگوں کو بہت فائد ہ ہوتا ہے۔ ان میڈیکل کیمپس کا فائدہ بیت سے ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو مہنگا ترین علاج نہیں کرواسکتے۔ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسی مہلک بیماریوں کا علاج اور ادویات مفت فراہم کیا جا تا ہے اور مریضوں کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے۔
یہ مثبت سوچ کا نتیجہ ہے اور مثبت سوچ سے ہی پاکستان آگے بڑھے گا انشااللہ ایک دن آئے گاجب پاکستان کی ہرنوجوان ہنر مند ماکستان کا ترجمان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں