ڈاکٹر طلعت ناہید

ڈاکٹر طلعت ناہید

Dr Talat Naheed

بڑے بزرگو ں سے سنا ہے کہ عزت، دولت اور شہر ت یہ شیرنی کی دودھ کی مانند ہے اور اس کو وہی لوگ ہضم کر سکتے ہیں جو شیر کی اولاد ہوتے ہیں۔ جب انسان کو یہ سب چیزیں ملتی ہیں تو اُ س کی زندگی دو چیزوں کے گرد گھومتی ہے یا وہ اپنی اوقات بھول جاتا ہے یا پھر اورجُھک جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسی بہت سی خواتین ہے جو شیر کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ ایک عورت کی زندگی صرف گھر تک ہی محدود نہیں ہوتی اگر عورت ایک پروفیشنل لیڈی بھی ہو اور پروفیشن بھی میڈیکل سائنس کا ہو تو ان سب چیزوں کو ساتھ لے کر چلنا آسان نہیں ہوتا مگر آپ اپنی پرسنل اور پروفیشنل زند گی کے ساتھ اگر ہر رشتے کا احترا م بھی کرو تو آپ کی شخصیت میں جو اصل چہرہ نظرآتا ہے وہ شیر کی اولا د ہوتا ہے تو آو بات کرتے ہیں شیر کی بیٹی ڈاکٹر طلعت ناہید سے۔

شیر کی بیٹی ڈاکٹر طلعت ناہید
                                 ڈاکٹر طلعت ناہید

ڈاکٹر طلعت ناہید 

آپ کہاں پیدا ہوئیں اور بچپن کیسا تھا؟
میں راولپنڈی میں پیدا ہوئی اور سب بہن بھائیوں سے بڑی ہوں تو گھر کی بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے میری ذمہ داریاں زیادہ تھیں۔ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا میر ے والد بچپن صاحب آرمی میں میجر تھے تو ان کی پوسٹنگ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہتے تھے تواس ہجرت کی وجہ میری تعلیم کافی مشکلا ت کا شکار رہی۔ میرے والد صاحب کی خواہش تھی کہ میر ے سارے بچے اعلی تعلیم حاصل کرئے۔اس لئے انہوں نے کبھی ہم سب بہن بھائیوں کو کبھی بھی کوئی پریشانی نہیں آنے دی تھی اور ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی۔میں نے نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور میں ہوسٹل میں رہتی تھی اور مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا تھا میر ے خرچے کے پیسے آجاتے تھے۔
آپ اپنے گھر کے سب سے زیادہ قریب تھیں؟
میں اپنے پورے خاندان کے بہت قریب تھی مگر امی اور ابوگھر کی بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے۔
اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کیسا رویہ رہا؟
اپنے بہن بھائیوں کی بڑی باجی ہونے کی وجہ مجھے ہمیشہ عزت اور پیار ملا اور الحمدللہ ابھی قائم ہے۔میر ی دو بہنیں اور دو بھا ئی ہیں بھائی آرمی میں تھے میر ی ایک بہن نے فائن آرٹس میں ماسٹر کیا اور ایک سیکالوجسٹ ہے۔ آج بھی میر ے بہن بھائی ہر کا م مجھ سے پوچھ کے کرتے ہیں۔
اپنے بچوں کو کتنا ٹایم دیا؟
ڈاکٹر ز کی زندگی بہت مصروف ہوتی ہے مگر اپنی تمام تر مصروفیا ت کی وجہ سے میں نے اپنے بچوں کو ٹائم دیا۔ میں نے 35سال شعبہ تعلیم میں کام کیا بہت سارے کالجز(کنگ ایڈوڈ میڈیکل کالج، فاطمہ جناح، رہبر میڈیکل کالج) میں بطور پرنسپل، ہیڈآف ڈیپارنمٹ بھی کام کیا مگر ان سب مصرفیات کے باوجود میں نے اپنے ہر رشتے کو باخوبی نبھایا۔میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروُں کم ہے کہ میر ی اولاد بہت فرمابردار ہے اللہ جی نے مجھے ایک بیٹی اور تین بیٹوں کی نعمت سے نوازا ہے۔شعبہ تعلیم میں ہونے کی وجہ سے میرے سٹوڈنٹس بھی میر ی اولادکے طرح ہیں میں نے ہمیشہ جو اپنے بچو ں کے لئے سوچا وہ اپنے سٹوڈنٹس کے لئے سوچا۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر طلعت بہت سخت ہیں اس بات میں کتنی سچا ئی ہے؟
فوجی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میر ے کچھ اصول ہے جس میں سمجھوتا نہیں کرتی میر ے لئے مریض چاہے غریب ہے یا امیر ایک برابر ہیں۔میر ے لئے سب پیسہ اہمیت نہیں رکھتاجب کوئی مریض صحت یاب ہو کر گھر جاتا ہے تو وہ میر ے لئے میری کل کمائی ہوتی ہے جب میں اپنی ڈیوٹی پر ہوتی تھی تو ایک مریض کو تقریبا آدھا آدھا گھنٹہ دیکھتی تھی کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہوجائے۔اکژ میرے بہن بھائی بھی کہتے ہیں کہ باجی جب اپنی ڈیوٹی پر ہوتی ہیں تو ہمیں بھی بھول جاتی ہیں۔میں نے ہمیشہ اپنے کام کو عبادت سمجھ کے کیا ہے اس لئے کام پر کوئی سمجھوتا نہیں پھر چاہے کوئی ناراض ہو یا جھگڑاکریں مجھے پرواہ نہیں۔
زندگی میں کتنی تنگی دیکھی؟
میرا تعلق کوئی بہت امیرخاندان سے نہیں تھا میر ے والد نے میر ی تعلیم کے لئے آرمی سے ریٹارمنٹ لے لی تھی کیونکہ میر ے والد مجھے آگے دیکھنا چاہتے تھے یہی وجہ تھی کہ جب وہ حاضر سروس تھے تو اُنہوں نے فوج کے بھرے مجمے میں کہا  تھا کہ میری روز روز کی پوسٹنگ کی وجہ سے میر ی بیٹٰی کی تعلیم کا بہت نقصان ہورہا ہے۔ میر ے والد صاحب سے اکژ لوگ پوچھتے تھے کہ آپ نے ابھی تک اپنا گھر نہیں بنایا تو وہ کہتے تھے کہ میری بچوں کی تعلیم پہلے باقی کام بعد میں۔
کیاآج کا میڈیکل کا سٹوڈنٹ ایک کامیاب ہے یا نہیں؟
میرے خیال میں اس ٹیکنالوجی کی دور میں میڈیکل کا سٹوڈنٹ اگر محنت کریں تو بہت سی کامیابیا ں سمٹ سکتا ہے مگر میرے خیا ل میں کامیابی بھی آپ کو محنت سے ملتی ہے۔سٹوڈنٹ کو اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے۔
اکبر چوہدری صاحب کے بارے میں کیا کہے گی؟
وہ بہت محنتی انسان ہیں۔ انہوں نے زندگی کے ہر رشتے کو باخوبی نبھایا ہے۔ ان کا اللہ جی پہ یقین ان کو ہمیشہ کامیاب کرتاہے۔ میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ میری رہنمائی کرتے ہیں میری زندگی کی ہر کامیابی کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔وہ ہمیشہ لوگ کے لئے درد رکھتے ہیں۔
سرکاری ہوسپٹلز میں مریضوں کے ساتھ بُراسلوک کیوں ہوتا ہے؟
یہ با ت بالکل غلط ہے ڈاکٹر بھی انسان ہے لوگ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر نے بدتمیزی کی مگر کاش کہ کبھی لوگ کبھی ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی بھی دیکھیں۔ ابھی جو وکلا ء نے پی آئی سی میں ڈاکٹرز کے ساتھ کیا وہ غلط ہوا اور جس وکیل کی وجہ سے ہوا وہ بھی پی آئی سی میں بدمعاشی کر رہا تھا کہ مجھے الگ پروٹوکول دیا جائے مگراصول توسب کے لئے ایک سے ہیں ڈاکٹر بھی انسان ہیں مگر شاید لوگ نہیں سمجھتے۔ ایک مریض کے ساتھ دس دس لوگ آتے ہیں اور ان لوگوں کے ہر بار دس نئے سوال ہوتے ہیں وہ شاید سمجھتے ہیں کہ زندگی ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہے جب کہ ہم ڈاکٹر صرف کوشش کرتے ہیں باقی زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
آج کے نوجوان کیوں جگر اور معدے کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں؟
اس کی سب سے بڑی وجہہ سگریٹ نوشی ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں فاسٹ فوڈ نے جنم لیااور اس ملک کی یوتھ کو تباہ کر رہا ہے۔ میں انہیں گھر کے کھانا او ر روز ہلکی سی سیر کی تلقین کرتی ہوں۔

کوئی پیغام جو آپ یوتھ کو دینا چاہتی ہیں؟
اپنی پڑھائی کو وقت دیں اور زندگی میں سچائی کا سامنا کریں اور ہر مقابلے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں