کیا کورونا وائرس کا ہومیو پیتھک علاج بھی ہے

کیا کورونا وائرس کا ہومیو پیتھک علاج بھی ہے

دُنیا بھر میں تین طر یقے کے علاج مشہور ہیں ایلوپیتھک ہربل اور ہومیو پیتھی طریقہ علاج
ان تمام طریقہ کار میں تشخیص مرض اور درست دوا تک جانے کے لئے سب کے الگ الگ راستے ہیں۔
ایلوپیتھی میں خاص طور پرپتھالوجی یعنی کہ مرض کی تشخیص کے بعد دوا تجویز کی جا سکتی ہے مثلا سردرد نزلہ زکام کھانسی معدہ کی تیزابیت یا کینسر ان امراض ادویات ان کے ناموں پر ہی دی جاتی ہے۔

کیا کورونا وائرس کا ہومیو پیتھک علاج بھی ہے

ایلوپیتھی میں تشخیص کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے مرض کی تشخیص کی جاتی ہیاس کے مختلف لیبارٹری ٹیسٹس یا ایکسرے الڑاساؤنڈ اور کی مدد سے اس کے مرض تک پہنچا جاتا ہے اسکے بعد مرض کی تشخیص ہونے پر درست دوا تجویز کی جاتی ہے مریض کے مزاج یا رحجان کے مطابق دوا دینے کا ایلوپیتھک سے کوئے تعلق نہیں۔
اسکے برعکس ہربل ادویہ یعنی طب یونانی میں یا ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں تشخیص کے دوسرے مختلف طر یقے کار ہیں طب میں نبض اہمیت ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے زیادہ مانی جاتی ہے اور تشخیص کرتے وقت مریض کے مزاج کوبھی مدنظررکھنا پڑتا ہے-
آجکل بعض حکیم اور ہومیو ڈاکٹرز یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کی تجویز کردہ دوا کرونا وائرس کا 100% کامیاب علاج ہے جبکہ بہت سے حکیم صاحب تو یہ دعویکر تے ہیں کہ اگر حکومت مجھے اجازت دے تو کرونا وائرس کے مریض میرے حوالے کرنے سے میں اسکی کامیاب دوا ایجاد کر لوں گا اور اسطرح قوم کو ایک ایسی دوا مل جائے گئی جو کرونا کے مرض کا خاتمہ کر دے گی

یہ خبر بھی پڑھیں: کون سا پھل کورونا سے بچاتا ہے

مگر آج کل کے حکیموں اورہومیوپیتھک ڈاکٹرز کی حالت دیکھ کر صر ف یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ بلی کو چوہوں کے خواب۔
پرانے اور اصل حکیم طب کے بنیادی اصولوں کو جانتے تھے وہ مرض دیکھ کر نہیں بلکہ نبض دیکھ کر نسخے تجویز کرتے تھے۔اور یہی اصول ہومیو ڈاکٹرز پیش کرتے ہے کہ ہر آدمی کے مزاج اور علامات کے مطابق ہی دوا حقیقی دوا ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی کوئی ایک قطعی ہومیو یا ہربل دوا ہرگز نہیں ہو گئی جو تمام مریضوں پر یکساں اثر کرے–ہاں کرونا وائرس سے حفظ ماتقدم کے لیے کچھ نسخہ جات ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے فضل سے زیادہ تر مریضوں کی صحت پر اچھا اثر رکھتے ہیں اور بیمار ہونے سے بچا سکتے ہیں مگر ان کے ساتھ دیگر احتیاطوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
کرانا وائرس سے اس طریقے کار سے بھی بچا جا سکتا ہے کہ ہم عمومی طور پر اپنی صحت بہتر رکھیں زیادہ خوف زدہ نہ ہوں -وٹامن سی کا استعمال کریں
اور موسمی پھلوں کو اپنی لائف سٹائل کا حصہ بنا لیں – شہد زیتون کلونجی کھجور کاطبیعت کے مطابق استعمال کریں اورورزش بھی کرتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں