ہندوستان کی حاملہ بیٹی سے اجتماعی زیادتی

ہندوستان کی حاملہ بیٹی سے اجتماعی زیادتی

ہندوستان کے ایک اسپتال میں حاملہ خاتون کو کورونا وائرس کی مشتبہ مریضہ بتا کر آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا جہاں دو دن تک طبی عملے نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔

ہندوستان کی حاملہ بیٹی سے اجتماعی زیادتی

ہندوستان کے مطابق ریاست بہار کے اسپتال انوگرا نارائن مگدھ میں 25 سالہ حاملہ خاتون اپنا ریگولر چیک اپ کروانے کے لیے آئیں تو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خد شہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا جہاں دو دن تک طبی عملہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ٹیسٹ منفی آنے پر خاتون کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
اس خاتون حمل پہلے ہی ضائع ہوچکا تھا، گھر جانے کے بعد طبیعت مزید بگڑ گئی اور واپس اسپتال لاتے ہوئے راستے میں ہی چل بسی ، خاتون نے ایمبولینس میں ساس کو ساری کہانی بتائی جس پر ساس نے پوری بات پولیس کو بتادی۔

یہ خبر بھی پڑ ھیں : انڈیا کی ہجڑوں کی ٖفو ج

پولیس نے مقدمہ درج کرکے اسپتال کے ایک ملازم شیو شنکر کو اپنی حراست میں لے لیا ہے جس نے ابتدائی بیان میں دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا جر م قبول کیا ہے ۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ہندوستان کی حاملہ بیٹی سے اجتماعی زیادتی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں