ہنر مندپاکستان کے ترجمان

ہنر مندپاکستان کے ترجمان

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور اس کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔ جب پاکستان کے نوجوانوں کی با ت ہوتی ہے تو بات ہی الگ ہوتی ہے۔ ہم نے اکثر ایک کہاوت سنی ہے کہ بڑی منزلوں کے مسافر دل چھوٹا نہیں کرتے۔تو یہ کہانی بھی پاکستان کے ہنر مند نوجوانوں کی ہے جنہوں نے اپنی ہمت اور ہنر منددانہ صلاحیتو ں سے اپنا لوہا منوایا۔تو آئیے ان کامیاب لوگوں کی کہانی سنتے ہیں۔

ہنر مندپاکستان کے ترجمان
                                                         ہنر مندپاکستان کے ترجمان

بی ایس (سی ایس)کے تھرڈایئر کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد اگلا مرحلہ جو کہ ایک مشکل مرحلہ تھا جس میں ہمیں ایک عدد پراجیکٹ ترتیب دینا تھا۔ جوکہ آنے والے دور میں مفید اور فائدہ مند ثابت ہو سکے۔ ہمارے ساتھ میں موجود ہر کوئی اس کوشش میں لگ گیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جو کہ مفید ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے دور کے لئے فائدہ مند بھی ثابت ہوسکے۔ ہمارا بیج چار طالبعلموں پر مشتمل تھا جن میں (فیضان سلیم، اسداللہ، شازیب حمزہ اور حسن سجاد) شامل تھے۔ ہم میں سے ہر کسی کے ذہن میں بہت سے خیالات چل رہے تھے مگر ایک ایسا خیال جوکہ موجود اور آنے والے دور کے لئے بہترین نتائج دے سکے وہ اب بھی کہیں چھپا ہوا تھا۔ بہت سے خیالات کے لئے ایک دوسرے سے بات چیت ہوتی رہی مگر ہم سب ایک پیج پر نہ آسکے۔
آخر کار ایک ایسا خیال ذہن میں آیا جو کہ دور جدید میں ایک بہترین اور نہایت مفید ثابت ہو سکتا تھا اورآ ج کے دور میں اس کی شدید ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے اور وہ خیال ایک ایسے ڈرون کا تھا جو کہ کاشتکاری کی صنعت میں ایک دورجدید کا شاندار شاہکار ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کاشتکاری کا عمل ایک نہایت طویل اور مشکل مرحلہ ہے اور کاشتکار اپنے ساری طاقت کے ساتھ اپنی فصل پر کام کرتا ہے اور موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر اپنی تمام تر توانائی اس پر لگا دیتا ہے۔ مگر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ اس کی تمام تر محنت ضائع ہو جاتی ہے اور یہ اس کے لئے نہایت تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔ وہ مرحلہ جب اس کی فصل پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ ہوتا ہے اور بروقت نہ پتہ چلنے کی بناء پر اس کی فصل کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ساری فصل بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ جبکہ کئی بار ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ فصل کا وہ حصہ جو کہ ٹھیک حالت میں ہوتا ہے کیمیکل سپرے کی وجہ سے وہ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ لہذہم نے اس مسلئے کے حل کے لئے بہت سے کاشتکاروں سے رابطہ کیا اور ان کی رائے لی۔

ہنر مندپاکستان کے ترجمان
ہنر مندپاکستان کے ترجمان

اس کے بعد زراعت کے شعبہ سے منسلک افراد سے رابطہ کیا اور ان کی رائے کو بھی اس تحقیقی عمل کے لئے استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبہ سے منسلک کمپنیاں جن میں (اینگرو،جعفر برادرزاور فور برادرز) شامل ہیں ان کے ایکسپرٹس سے ملاقات کی گئی۔ اس سار ے عمل سے گزرنے کے بعد اس مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے عمل کی ضرورت تھی جو کہ اس چیز کو ممکن بنا سکے کہ فصل کے کس حصہ پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ ہوا ہے جوکہ فصل کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے لیے فصل کے اس حصہ کو کیمیکل سپرے کی ضرورت ہے۔اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا ڈرون متعارف کروانے کی ضرورت تھی جو کہ فصل کی فضائی نگرانی رکھ سکے اور بروقت اطلاع دے سکے کہ فصل پر نقصان دہ کیڑوں کا حملہ ہوا ہے اور انہیں تلف کئے جانے کی اشدضرورت ہے۔

ہنر مندپاکستان کے ترجمان

پاکستان میں اس قسم کا کوئی خود کار نظام موجود نہ ہے جوکہ کاشتکار کو اس چیز کی بروقت اطلاع دے سکے کہ اس کی فصل کو کن کن کیڑے مکوڑوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ممکن ہو سکے تو پاکستان میں کاشتکاری کے شعبے سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جب کہ دنیا میں موجود جدید ممالک اس قسم کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہترین نتائج پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ لہذا اب ہمیں بھی ایسی ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو کہ ہمیں ماڈرن دور میں جدید تکازوں سے ہمکنار کر سکے۔
لہذا ہم سب نے مل کر ایسا پراجیکٹ ترتیب دیا جو کہ ان کیڑوں مکوڑوں کی نشان دہی کر سکے جوکہ فصل کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ جسے ہم نے سمارٹ پیسٹ سکاؤٹنگSmart Pest scoutingکا نام دیا گیا ہے۔یہ جدید ڈرون فصل کی فضائی نگرانی کرے گا اور ایک ویڈیو ریکارڈ کرے گا۔اس ویڈیو کو ایک جدید سوفٹ ویئر میں چلایا جائے گا۔ جس کے لئے امیج پراسیسنگ (Image Processing)اور اے آئی (Artificial Intelligence)کے عمل کا استعمال کیا گیا۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں یہ پتہ چلاکہ اس فصل پر کس قسم کے کتنے کیڑے مکوڑے موجود ہیں اور ان میں سے کتنی تعداد کے کیڑے مکوڑے فصل کے لئے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سارے پراسس کے بعد اس چیز کا فیصلہ کیا جا سکے گا کہ اس فصل کو کیمیکل سپرے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
یہ نا صرف فصل کے اوپر کے حصے سے کیڑے مکوڑوں کی نشاندہی کرے گا بلکہ پتے کے نچلے حصے پر موجود کیڑے مکوڑوں کی بھی نشاندہی کرے گاجس کی مونیٹرینگ کے لئے تھرمل امیجنگ (Thermal Imaging) کا استعمال عمل میں لایا گیا ہے۔ہم نے اس کی بہترین پراسسنگ کے لئے دو کھیتوں کا انتحاب کیا۔ جن کے نتائج کافی حد تک تسلی بخش تھے۔ یہ ایک نہایت مفید پراجیکٹ ہے جس کے بہترین نتائج کے لئے اس پر مزید کام کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ یہ زراعت کے شعبہ میں بہترین پیداوار میں اپنا کردار ادا کرے گا اور پاکستان میں زراعت کے شعبہ کی ترقی کا باعث بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں