sarwar-foundation

چوہدری سرور کی سرور فاونڈیشن کی کہانی

چوہدری سرور کی سرور فاونڈیشن کی کہانی

سرور فاونڈیشن – اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان میں ابھی بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو نیک دل اور نیک نیت رکھتے ہیں شاید ایسے ہی لوگ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ(ہے زندگی کامقصد اور کے کام آنا)۔اللہ جی نے انسان میں بہت خیر رکھی ہے اور انسان کا کام ہی خیر خواہی ہے اور جب بات حضرت محمدﷺ کے امتی ہونے کی ہو توپھر چاہے جان چلی جائے مگر خیر کا پیغام ہی دینا ہے۔

اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کو اللہ جی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے مگر وہ پھر بھی اللہ جی کے بندوں کو ناراض کر کے اس کی ناشکری کرتے ہیں مگر جہاں نا شکری کرنے والے ہیں وہاں ہر وقت شکر کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کو راضی کر نے والے بھی ہیں اُنہی بندوں میں سے ایک بندہ ایسا بھی ہے جو کہیں پانی کا فلٹر پلا نٹ، کہیں سکول تو کہیں ہسپتال بناتا ہے اور ایک ہاتھ سے نیکی کر اور دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے جیسی مثالوں پر پورا اُتر تا ہے اس ہنر مند پاکستا ن کے ترجمان کو چوہدری سرور کہتے ہیں جو پاکستان میں ایک فلاحی تنظیم سرور فاونڈیشن چلا رہے ہیں۔

سرور فاونڈیشن کا مقصد ہندی فلم کک جیسا بالکل نہیں ہے کہ باہر کے ممالک سے فنڈز آتے ہیں فاونڈیشن کا اونر اپنے ہی بنک اکاونٹ بھرتا ہے بلکہ چوہدری سرور صاحب کے پاس اگر کوئی اپنی مشکل لے کرآیا تو اس انسان نے اپنی جیب سے اس کی مدد کی تو کوئی کیسے سوچ سکتا ہے کہ یہ بندہ ملک پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں۔

اب ذرا ایک نظر سرور فاونڈیشن کے اہم مقاصد پر ڈالتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ 2004 میں قائم ہونے فاونڈیشن پاکستان میں بہت سی تبدیلیاں لے کر آرہی ہے اور شہر کے ساتھ ساتھ گاوُں کی زندگی کو بھی روشنی کی طر ف لے کر جارہی ہے۔

اس کا بنیاد ی مقصد پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کے فلٹر پلانٹس لگانا ہے تاکہ لوگوں کو صاف پانی پینے بآسانی دستیاب ہو اور لوگ بہت سی بیماریوں سے بچ سکے اور زندگی کو اچھے سے گذار سکے۔

پاکستا ن میں بہت سی اموات گندا پانی پینے کی وجہ سے ہوتی رہی ہیں اور شاید ہوبھی رہی ہیں اس کی اصل وجہ گندا پانی ہے جس کی وجہ سے ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو ہمارے جگر کو نقصان پہنچتی ہے او ر پھر موت کی شکل اختیار کر کے ہنستے ہوئے گھروں میں شام غریباں کا منظر پیش کرتی ہے۔ 150پانی کے فلٹر پلانٹ کے علاوہ سرور فاونڈیشن ہسپتال رجانہ، سرور فاونڈیشن رائے علی نواز ہسپتال چیچہ وطنی بھی اسی تنظیم کی مرہومنت ان ہسپتالوں میں نہ جانے کتنے غریب لوگوں کو زندگی کی نئی اُمید ملتی ہے۔

ہسپتال کے قیام سے لے کراب تک تقربیابیتس ہزار بچے یہاں پیداہوئے ہیں اور تین لاکھ سے زائدمیڈیکل کیمپس کی وجہ سے فری علا ج کی سہولت سے حاصل کر چکے ہیں یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ تقربیا دس ہزار لوگوں کا چیک اپ روز ہوتا ہے اور ایک سو ساٹھ لوگوں کا آپریشن ہوتاہے۔

یہ سب اسی ملک میں ہوتا ہے جس کو دنیا کے دشمنی ممالک دہشت گرد سمجھتے ہیں اور یہ اُسی چوہدری سرور کی فاونڈیشن ہے جس نے پاکستان کی خاطر اپنی یوکے کی نیشنلٹی کو خیر باد کہا ہے یاد رہے کہ اس ملک کے سیاست دان پاکستان کو خیر باد کہتے ہیں مگر چوہدری سرور نے اس ملک کی خاطر اپنی عیاش وآرام والی زند گی کو خیرآباد کہا ہے۔

ہم امید کرتے کہ مستقبل قریب میں انشااللہ ایسے بہت سے لیڈرز پیدا ہوں گے جو ملک پاکستان کے لئے خیر پیغام لے کر اس روشنی کی نئی شمع روشن کریں گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں