the-positive-result-of-the-positive-truth

مثبت سچ کا مثبت نتیجہ

مثبت سچ کا مثبت نتیجہ

ہم بچپن سے ایک کہاوت سنتے آرہے کہ دوسرے کا منہ لال دیکھ کراپنا منہ لال نہ کرومگر ہم ایسا ہی کرتے ہیں آخر کیوں۔ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ اپنی اوقات سے بڑھ کر زندگی گذرانا چاہتے ہیں ہم نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا شاید ہم ہمیشہ دوسر ں کے لئے زندگی گذرانا چاہتے ہیں کہ لوگ کیا کہے گئے اور لوگ آخر میں یہ ہی کہتے ہیں اچھا تھا بس اب اللہ آخرت کی منزل آسان کریں۔
ہماری سوچ اب صرف لوگوں کے لائف سٹائل کے گرد گھومتی ہے اس کے پاس یہ ہے تو ہمارے پاس کیو ں نہیں، اس کے پاس گاڑی ہے تو ہمارے پاس کیوں نہیں۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جو ہمارے پاس ہے وہ کسی اور کے پاس بھی ہے کہ نہیں۔

یہ طے شدہ بات ہے کہ ہماری سوچ ہمارامستقبل ہوتی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ ہم یہ سوچنے کی بجائے کہ اس کے پاس کیا ہے اور ہمارے پاس کیا ہے اگر یہ سوچے کہ یہ سب ایک دن ہمارے پاس بھی ہو گاتو آزما کے دیکھیں گا یہ سب آپ کے پاس ایک دن ضرور ہوگا صرف اچھے وقت کا انتظار کر یں۔ اب اگر بات انتظار کی ہے تو ہم سے انتظار بھی نہیں ہوتا ہم کہتے کہ جو بویا اس کا پھل بھی جلد مل جائے یاد رکھیں گا کہ جلدی کا کا م شیطان کا ہوتا ہے اور شیطان نے ہمیشہ کام بگڑا ہے کبھی بھی اچھا کا م نہیں کیا۔ اپنی سو چ کو مثبت رکھنا ہی بہتر ہے کیونکہ چیزوں کو منفی نظر سے دیکھو گئے تو اپنے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے جوڑے رشتوں کو بھی نقصان پہنچاو گئے۔

اگر دنیا کے بڑے بڑے بزنس لیڈرز، سیاست دانوں اور خاص طور پہ شوبزنس کے لوگوں کو دیکھے تو مثبت سوچ کی اعلیٰ مثالیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اچھا سوچتے تھے کہ ایک دن ہم سٹار ہوں گے لوگ ہمارے آگے پیچھے ہوں گے ہمارے بہت کاروبارہوں گے وغیرہ اور آج آپ اگر ان کی زندگیوں کا مشاہدہ کریں یا ان کے انٹرویوز دیکھیں تو وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہاں مجھے شوق تھا یا ہاں میں نے سوچا تھا۔ بس اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔کیا اپنی سوچ سے آپ اپنا ایک دن چاہتے ہیں یا اپنا آج بھی خراب کر نا چاہتے ہیں۔
یاد رکھیں گا کہ سب سے بڑاہے روگ کیا کہیں گے لوگ تواگر آپ بھی یہ ہی سوچتے ہیں تو سوچتے رہو مگر یاد رکھو کہ جب تم یہ سوچ رہے ہو گئے تووہ لوگ جو صرف اپنی منزل میں آنے والی ہر رکاوٹ کو اپنے ہاتھ سے دور کرتے رہے وہ اپنی سوچ کو پروان چڑھارہے ہوں گئے اور اپنی منزل کے قریب ہوں گئے اور پھر تمہاری ایک نئی سوچ جنم لے گئی اور تم اپنا وقت ضایع کرتے جاو گئے اگر ایسا نہیں چاہتے تو مردحر بنو اور ہمت پکڑو اور اپنی پہچان خود پیدا کرو۔ ملک پاکستان بھی ایک مثبت سوچ کا نا م ہے ایک اعلی مثال ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ انشااللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں