end-of-mere-pass-tum-ho

میرے پاس تم ہو کا اختتام

میرے پاس تم ہو کا اختتام

مشہور ڈرامہ میر ے پاس تم ہو اب اپنے اختتام کی طر ف بڑھ رہا ہے۔ اس ڈرامے کے رائٹر خلیل الرحمن قمر کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ اب اپنے اختتام کی طرف ہے مگریہ ڈرامہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس ڈرامے کو بہت دل سے لکھا ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ کافی سالوں بعد اس ڈرامے نے پی ٹی وی کے ڈراموں کی طرح سڑکیں خالی کروائی ہیں۔خلیل الرحمن قمر نے بتایا کہ اس ڈرامے کی ہر قسط نے اپنا ریکارڈ بنایا ہے اور دیکھنے ولوں کے دلوں پر گہرااثر چھوڑا ہے اورامید ہے کہ یہ ڈرامہ لوگوں کو نصحیت بھی دے گا اور وصیت بھی کہ کبھی بھی دونمبر لوگوں پر بھروسہ نہ کرنا۔

اس ڈرامے کی آخری قسط کے حوالے سے خلیل الرحمن قمر نے کہا کہ کمزور دل والوں نے پیشگی معذرت ہے کہ اس ڈرامے کو ذرا دل تھام کے دیکھیں گا کیونکہ اس قسط میں جس کام کا آغاز بھی ویسا ہی ہوگا والی بات ہوگی جو شاید لوگوں کو رونے پر مجبور کردے گا جیسے میں اس ڈارمے کے کئی ڈائیلاگز لکھتے ہوئے رویا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھ اکہ مجھے کبھی بھی کسی پر چاہے عورت ہو یا مرد ترس نہیں آیا مگر عورت کے ہاتھوں برباد ہوئے مرد کی حالت دیکھ کر آتا ہے۔ ایک نٹرویوکے دوران ان کا کہنا تھا کہ عموما عورتوں کو اتنا غصہ نہیں کر نا چاہیے تھا میر ے پوس تم ہوپر جتنا انہوں نے مل ملا کر مردوں کو ذلیل کیا ہے میں نے اُن کی حمایت میں بات کی ہے۔
یہ ڈرامہ سوشل میڈیا کی تاریخ کا واحد ڈرامہ ہے جو کہ ہر قسط کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ میں ہوتا ہے۔ اداکاروں کی جاندار ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ یہ ڈرامہ اپنے جاندار مکالموں کی وجہ سے بھی مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔ اگلے ہفتے اس ڈرامے کی آخری قسط چلے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں