charging-is-now-possible-with-wi-fi-signals

اب وائی فائی سگنلز سے بھی چارجنگ ممکن ہے

اب وائی فائی سگنلز سے بھی چارجنگ ممکن ہے وہ کیسے آئیے جانتے ہیں

میری لینڈ: میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے چند انجینئروں نے گریفین کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا تجرباتی آلہ ایجادکیا ہے جو وائی فائی سگنلز جذب کرکے بجلیپیدا کر سکتا ہے۔
یہ آلہ جسے انہوں نے ”ٹیرا ہرٹز ریکٹی فائر“ کا نام دیا ہے جو مربع شکلکی خردبینی گریفین ٹکڑوں کا مجموعہ ہے اس کے نیچے بورون نائٹرائیڈ کی پرت بچھائی گئی ہے۔

وائی فائی کے سگنلز اس آلے میں سے گزر کر اسمارٹ فون/ اسمارٹ ڈیوائس کے انٹینا تک پہنچتے ہیں لیکن گزرتے ہوئے اس ٹیراہرٹز ریکٹی فائر میں موجود گریفین کے الیکٹرونز میں اپنی توانائی کا کچھ مخصوص حصہ منتقل کرجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک خاص سمت میں ڈائریکٹ کرنٹ (ڈی سی) کے طور پر بہنے لگتے ہیں اور یہ ہی کرنٹ چارجنگ میں کام آتا ہے۔
ابتدائی تجربات کے بعد پتہ چلا ا ہے کہ ٹیراہرٹز ریکٹی فائر میں گریفین جتنی خالص ہوگی، اس کی کارکردگی بھی اتنی ہیخالص ہوگی۔ اس آلے بنانے والے ا نجیئنززنے خبردار کیا ہے کہ ابھی اس کا مقصد صرف ایک تصور کو عملی طور پر ثابت کر نا ہوگا اس لیے وائی فائی سگنلز سے کوئی چارجنگ ڈیوائس مارکیٹ میں جلد دستیاب ہونے کی امید نہ رکھی جائے۔
اس ایجاد کی تمام تفصیلات ریسرچ جرنل ”سائنس ایڈوانسز“ کے تازہ شمارے میں آن لائن شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں