youtube-and-tiktok

ٹک ٹاک کے بعد یوٹیوب بھی

ٹک ٹاک کے بعد یوٹیوب بھی

صرف دو تین سال میں ٹِک ٹاک ایپ نے دنیا بھر میں اپنی مقبولیت کے نئے جھنڈے گاڑے ہیں۔اسی وجہ سے خود یوٹیوب کو اب ٹِک ٹاک کی متبادل ایپ بنانے کی شرارت سوجھ رہی ہے جسے ’شارٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ایپ بہت کامیاب ہوسکتی ہے کیونکہ اس وقت یوٹیوب کی اپنی لائبیریئری فری میوزک، ویڈیوز سے بھری پڑی ہے۔ اس طرح یوٹیوب کو ٹِک ٹاک پر ایک ہر طرح سے خاص برتری حاصل ہوگی۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے یوٹیوب ایپ کے ساتھ ہی شامل کیا جائے گا لیکن آپشن کی بدولت اب اسی ایپ سے مختصراً ویڈیو بنانا ممکن ہوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کی غیرمعمولی مقبولیت بڑھنے کے بعد ہی یوٹیوب نے شارٹس ایپ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
2016 میں چین میں لانچ کی گئی ٹِک ٹاک ایپ بہت تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہوئی اور 2018 تک اس ایپ کو سبھی ایپس کی ماں بھی کہا جانے لگا۔ وائنز کی طرح اس میں بھی تین سے ساٹھ سیکنڈ کی چھوٹی ویڈیو بنائی جاسکتی ہیں جو کہ مسلسل چلتی رہتی ہیں۔ اب تک یہ دونوں ایپ والی ویب سائٹس سے سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ کی ڈور میں شاپل ہوگئی ہے۔ اپنی آسانی کی باعث یہ نوجوانوں اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں بہت مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنوں پر بُرا اثر بھی ڈال رہی ہے۔ دو برس میں ایپ کے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 125 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ کالم بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کس بیماری کا نام ہے

دوسری جانب ٹِک ٹا ک معاشرے میں بہت سی خرابیوں کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ امریکی سیاستدانوں نے اس پر تنقید بھی کی ہے۔پاکستان میں بھی ٹِک ٹاک پر کئی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ یہ نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہیں۔ لیکن یوٹیوب کے متعلق ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔
توقع ہے کہ یوٹیوب 2020 کے آخر تک شارٹس کو متعارف کروائے گی لیکن موجودہ لاک ڈاؤن کی صورت میں شاید اسے جلد ہی صارفین کی سامنے لے آئے۔ تاہم فیس بک نے بھی ٹک ٹاک جیسی ایپ پیش کرنے کا اعلان کیاجسے لاسو کا نام دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں