umm-haroon-is-under-severe-criticism

’’ام ہارون‘‘ شدید تنقید کی زد میں

 ’’ام ہارون‘‘ شدید تنقید کی زد میں

سعودی عرب میں پہلے رمضان سے نشر ہونے والا ڈرامہ ’’ام ہارون‘‘ اپنے موضوع کے باعث متنازع ڈرامہ بن گیا ہے اور فلسطینیوں کی طرف سے اس ڈرامے کو نشر کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 ’’ام ہارون‘‘ شدید تنقید کی زد میں
’’ام ہارون‘‘ شدید تنقید کی زد میں

ایک انٹرنیشنل خبررساں ادارے کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک نے اپنی ایک صحافی فاطمہ ترکی کی ایک رپورٹ نشرہونے پر سعودی چینل مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ تنقید کی زد میں آیا۔ فاطمہ دعویٰ کیا کہ حال ہی میں رمضان میں نشر ہونے والے دو ڈرامے ’’ام ہارون‘‘ اور ’’مخرج7‘‘ جسے ’’ایگزٹ7‘‘ بھی کہا جاتا ہے اسرائیل کے ساتھ عرب تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے نشر کئے گئے ہیں۔
ڈرامہ سیریل ’’ام ہارون‘‘ دبئی میں واقع سعودی ٹی وی نیٹ ورک ایم بی سی کی طرف سے یکم رمضان سے نشر ہو رہا ہے اس ڈرامے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کو بہتر طریقے سے معمول پر لانے کی کوشش کو دیکھایا گیا ہے جس میں صیہونی ریاست کے ساتھ ہمدردی اور فلسطینیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ یہودیوں کا مکروہ چہرہ مثبت دیکھایا گیا ہے۔
اس ڈرامے کے حوالے سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ’’ام ہارون‘‘ میں تاریخی حقائق کو دانستہ طور پر مسخ کیا گیا ہے اور اس کی آڑ میں جمہور عرب عوام بالخصوص خلیجی عوام کے ذہنوں اور افکار پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔
حماس گروپ کے ترجمان حزیم قاسم نے ترکی نیوز ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے ڈرامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈراموں کو عوام اور ان کے خیالات کی ترجمانی کرنی چاہیے نہ کہ کسی خاص اور بُرے نظریے کی تشہیر کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال تیار کردہ کچھ عرب ڈرامے فلسطینی مقاصد پر سوال اٹھاتے نظر آرہے ہیں۔ اسرائیل ایک بہت بڑا خطرہ ہے اورعربوں کا پہلا دشمن ہوگا۔
یاد رہے کہ ڈراما سیریل ’’ام ہارون‘‘ میں کویت میں 1940 کے عشرے میں عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلقات پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اس میں یہودیوں اور مسلمانوں کے تعلقات پر نظر ڈالی گئی ہے مگر اسی عرصے میں فلسطینی قوم پر یہودیوں کی دہشت گردی، نسل پرستی، ظلم اپنے عروج پر ہونے کے باوجود اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں