budget-2020-2021-presented

بجٹ 2020-2021 پیش کر دیا گیا

بجٹ 2020-2021 پیش کر دیا گیا

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-21ء کے لیے 7294.9 ارب روپے حجم کا بجٹ عوام کے سامنے پیش کردیا جس میں 3437 ارب خسارہ ہے جب کہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں شامل کیا ۔

اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نےبجٹ قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا۔
موٹر سائیکل اور رکشا سستے، ڈبل کیبن گاڑیاں مہنگی
اس بجٹ میں آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 2 سو سی سی تک کی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس بالکل ختم کردیا گیا جب کہ ڈبل کیبن گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کو بڑھا دیا گیا۔
مقامی موبائل فون سستے
مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فون پر ٹیکس کم کرنے کی تجویز پیش گئی ہے۔
سگار، سگریٹ، انرجی ڈرنکس مہنگے
سگار اور سگریٹ کی پرچون قیمت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 100 فیصد کرنے جبکہ (کیفین والے) انرجی ڈرنکس پر 25 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ای سگریٹ اور درآمدی مشینری پر ٹیکس کی شرح کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
مہنگے اسکولوں پر ٹیکس دگنا
حکومت نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائدکیا ہے ۔ 2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس ادا کر نا پڑے گا۔
بغیر شناختی کارڈ ٹرانزیکشن کی حد میں اضافہ
تاجروں کے لیے بغیر شناختی کارڈ کے خرید و فروخت کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی۔
3437 ارب روپے بجٹ خسارہ
بجٹ میں وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3700 ارب روپے ہے اور اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب لگایا گیا ہے، اس طرح بجٹ خسارہ 3437 ارب روپے ہے جو جی ڈی پی کا سات فی صد بنتا ہے۔
1289 ارب کا دفاعی بجٹ
بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4963 ارب روپے تجویز جبکہ دفاعی بجٹ کا حجم 1289.134 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
تعلیم و صحت، بجلی، ٹرانسپورٹ
عوام کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے پاکستان ریلوے کے لیے 40 ارب روپے، تعلیم کے لیے 30 ارب روپے، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب، توانائی اور بجلی کے لیے 80 ارب، خوراک و زراعت کے لیے 12 ارب، موسمیاتی تبدیلی کے لیے 6 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے اور قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب کا اعلان کیا گیا ہے ۔
ٹڈی دل، کامیاب نوجوان پروگرام، زراعت
ٹڈی دل لو ختم کرنے کے لئے 10 ارب روپے، کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے جبکہ فنکاروں کی مالی امداد کے لیے رقم 25 کروڑ سے بڑھا کر ایک ارب روپے کردی گئی ہے۔
صوبوں کا حصہ 2873.7
اگلے بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے، مجموعی ریونیو کا تخمینہ 6573 ارب روپے ہے جس میں ایف بی آر کے ریونیو کا 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو 1610 ارب روپے ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2873.7 ارب روپے تک ہے۔
کورونا وائرس پیکیج
کورونا وائرس کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج منظور کیا گیا ہے ، طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب اور غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب کا اعلان کیا گیا ہے ۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں کمی
آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت 51 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے ۔ مجموعی وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1324 ارب روپے ہوگا، وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 650 ارب روپے رکھنے اور صوبوں کے لیے 674 ارب رکھنے کی تجویز ہے۔
ہوٹل انڈسٹری پر ٹیکس میں کمی
ہوٹل کی صنعت پر 6 ماہ کے لیے ٹیکس کی شرح ڈیڑھ فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کرنے کی تجویزپیش کی گئی ہے۔
خصوصی گرانٹ
بجٹ تجاویز میں ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے کا اعلان کی گیا ہے۔ آزاد جموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب، خیبر پختون خوا میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب، سندھ کے لیے 19 ارب، بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے ۔
کابینہ اجلاس
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے اورموجودہ حالات کے باعث تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 7600 ارب روپے حجم کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کی بھی منظوری دے دی۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن 2019 والی ہی برقرار رہے گی ۔ بعض کابینہ ارکان نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ کیا مگر وزارت خزانہ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں یہ اضافہ نہیں ہو سکتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں