سیلاب متاثرین ابھی بھی مدد کے طالبگار ہیں

ایچ پی ٹایمز (بلاگ دیسک)

اب کے برس مون سون میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے وطن عزیزکے بہت سے ان دیکھے خوابوں کو بہا دیا۔ پاکستان کے چاروں صوبے اس کی زد میں آئے۔ اس سال اُمید سے بڑھ کر کہیں زیادہ بارشیں ہوئیں جن کے نتیجے میں دریا، ڈیم اور نہریں اپنی اوقات سے باہر ہوگئے اور کئی اضلاع کے لوگوں‌ خواب بھی اپنے ساتھ بہا لے گئے۔ پوری کی پوری بستیاں سیلاب سے تباہ ہوئیں اور سیکڑوں لوگ اس دُنیا فانی سے کوچ کر گئے ۔

ان لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی لمحوں میں سیلاب کی نذر ہوگئی۔ لوگ کھلے آسمان کے نیچے اپنی زندگی کے بچے کُچے دن بسر کر نے پر مجبور ہوئے ۔ ملک کے غریب عوام مزید غربت اور لاچاری کا شکار ہو گئے ۔ صوبہ بلوچستان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں‌ غربت ، لاچاری اس کے ماتھے کا جھومر ہے ، سیلاب نے بچی کچی زندگیاں بھی اس کڑی مصیبت میں مُبتلا کر دئیں.

بلوچستان کے 27 اضلاع سیلاب سے کی زد میں آئے، جہاں امدادی کام نظر آئے مگر نہ ہونے کے برابر۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا صوبہ ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین پر پھیلے ہوئے دور دزار کے دیہاتوں تک امدادی ٹیموں رسائی ممکن نہیں‌تھی ۔ جس علاقے میں‌ امدادی کارروائیاں ہوئیں وہاں کی عوام ابھی تک سُکھ کا سانس نہیں‌لے پائی تو جہاں تک امدادی ٹیمیں پہنچ ہی نہ پائی ہوں گی وہاں کی عوام کا تو پھر اللہ ہی حافظ؟

اسی طرح باقی صوبوں ( سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا) میں بھی سیلاب نے اپنے رنگ دکھائے۔ متاثرہ علاقوں کی عوام کا حال قیامتِ صغراں‌سا تھا ، کئی لوگ باپ کے سائے سے محروم ہوئے تو کئی گھر کی چھت سے ۔ لاکھوں معصوم زندگیاں‌ کھلے آسمان تلے بھوکے پیاسے کسی مسیحا کے منتظر رہے ، جس کی امید عام طور پرکم ہی ہوتی ہے۔

حکومتوں اور فلاحی اداروں نے کوشش تو کی کہ کسی طرح سیلاب متاثرین تک امداد پہنچ جائے ۔ ان کے گھر سیلابی پانیکی نظر ہو چکے تھے اور بے سہارا زندگی بسر کر نے پر مجبور تھے۔ ان کی زندگیاں‌ کبھی تو بارش کے ساتھ بھگتیں‌ ہا کبھی دُھوپ میں‌جلتیں ۔ کچھ لوگ جو گھر کا کچھ سامان بچا لائے مگر پھر بھی وہ چارپائیوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے۔ ان حالات میں انہیں سر چھپانے کےلیے خیمے وغیرہ درکار تھے لیکن حکومت یا امدادی ٹیمیں ان کی اس ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر رہیں۔ اگرچہ بڑی تعداد میں خیمے فراہم کر بھی دیے گئے لیکن متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ حکومت بھی ان تک امداد پہنچانے میں بے بس ہوگئی۔

اس وقت صحافیوں اور دیگر حلقوں نے اس کےلیے خوب آواز بلند کی اور اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح ہمارے ہاں ہر مسئلے پر دو دن شور کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے اسی طرح سیلاب متاثرین کے معاملے پر بھی مکمل طور پر خاموشی چھا گئی اور اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ حالانکہ ابھی تک سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام مکمل نہیں ہوسکا اور بہت سا کام باقی ہے جس کے مکمل ہونے میں شاید کئی سال لگ جائیں۔ کئی علاقوں سے تو ابھی تک پانی ہی نہیں نکلا تو سیلاب متاثرین کی بحالی کیسے ہوسکتی ہے؟

موسم سرما کی ابتدا ہوچکی ہے جس سے متاثرین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، کیونکہ شدید سردی میں گھر کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔ اسی طرح ان کے پاس گرم کپڑوں کی بھی قلت ہے جس کی وجہ سے وہ سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔ اب بھی انہیں امداد کی سخت ضرورت ہے لہٰذا صاحب حیثیت لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد کریں۔ اور میڈیا اداروں بھی کو چاہیے کہ جب تک سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام مکمل نہیں ہوجاتا ان کےلیے آواز بلند کرتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں