تحریکِ خالصتان اورپنجاب بھارت میں کشیدگی بڑ ھنے کی وجہ

ایچ پی ٹائمز (بلاگ ڈیسک) :

بھارت پنجاب میں ان دنوں ایک پناجبی بھائی جن کا نام سندھو جٹ امرت پال سنگھ ہے آج کل خبروں کی زنیت بنے ہوئے ہیں، جہاں ان کے نظریات اور سرگرمیوں کوسکھ نوجوان نسل میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے تو دوسری طرف کچھ لوگ ان کے خلاف بھی اپنے پر تو ل رہے ہیں۔

پنجاب بھارت میں ایک بار پھر 1984 جیسے حالات بنے کے آثار نظر آرہے ہیں اس مشکل وقت میں‌ یہ نظارہ بھی سکھ بردرای کے دل کاٹنے کے لئے کافی ہے جیسے بھارتی فوج کی طرف سے سکھوں کے مقدس ترین عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر فوج کی طرف سے بے حرمتی کی ہوائیں‌ چل رہی تھیں‌ ۔ اس کارروائی میں روحِ رواں خالصتان تحریک جرنیل سنگھ بھنڈرا والا اور ان کے ساتھیوں کو بت دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقع کے بعد اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا بھی قتل ہوا اور یوں‌ سکھوں کے قتلِ‌ عام سے خون کی ہولی کھیلی جانے لگی ۔

سکھوں‌کے نوجوان سردارامرت پال سنگھ دس سال تک امارات میں مقیم رہے اور 2022 کے وسط میں انڈیا واپس آگئے اور ’’وارث پنجاب دے‘‘ کے نام سے ایک گروپ بنایا۔ امرت پال سنگھ ایک طرف تو سکھ نوجوانوں کو نشے جیسی لعنت سے جان چھوڑوانے کے لئے سکھ نوجوانوں کو اس بات کی طرف راغب کر تے رہےکہ سکھ مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، اوراپنے بالون خے نئے نئے سٹائل نہ بنوائے بلکہ اپنی شان یعنی کہ سر پر پگڑی کو سجائیں، مگر دوسری طرف وہ پنجاب میں مسیحی بردرای کے خلاف بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں جو پنجاب کے سرحدی علاقوں کےغریب سکھ گھروں کومسیحیت کی طرف لانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان سردارامرت پال سنگھ کا خیال ہے کہ مسیحی مشنری جبری مذہب تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے گرو صاحبان کی بھی بے ادبی اور بے حرمتی کررہے ہیں۔

امرت پال سنگھ کے اس جبرانََ مذہبی تبدیلی کے بارے میں سخت بیانات بھارتی پنجاب میں مذہبی تناؤ بڑھنے کی ایک خاص وجہ ہے ۔ وہی پنجاب میں‌ مسیحی برادری بھی امرت پال سنگھ کے خلاف احتجاج کرتی نظرآرہی ہے۔ ایک خطر ناک صورتِ حال یہ بھی ہے کہ بھارت کی مرکزی اور پنجاب کی ریاستی حکومتیں ابھی تک سردارامرت پال سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرپا رہی ہیں‌۔ امرت پال سنگھ کا وژن ابھی تک واضع نہیں ہو ا۔ وہ خالصتان کی بات تو کرتے ہیں مگرابھی تک یہ نہیں بتایا کہ خالصتان کہاں بنے گا، خالصتان میں کون سے علاقے ہوں گے، وہاں کا آئین کیا ہوگا اورقانون کیا ہوگا؟ یا پھرصرف خالصتان کے نام کو استعمال کر کےسکھ نوجوانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چنچل منوہر سنگھ کے مطابق اس وقت امریکی سکھوں کے پاس خالصتان کا الگ نقشہ ، جبکہ برطانیہ اور کینیڈا کے سکھوں کے پاس خالصتان کا الگ نقشہ موجود ہے۔ خالصتان کا مطالبہ کرنا کوئی بڑا جرم نہیں یہ سکھ قوم کا دیرینہ مطالبہ ہے مگراگر خالصتان کا قیام ہو جاتا ہے تو بھارت کے ہاتھوں‌ جموں و کشمیر بھی نکل جائے گا جو کہ بھارت سرکار کبھی نہیں چاہیے گی.

اس حوالے سےامرت پال سنگھ کی سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز اور بیانات بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ہندوستان نے ہمیشہ سکھوں کو غلام بناکر رکھا ہے، اس لیے وہ بھارت سے آزاد ہو کر زندگی جینا چاہتے ہیں ۔ اس کی ایک بڑ ی وجہ سکھ نوجوانوں کو سازش کے تحت نشے کی لت ڈالنا بھی ہے تاکہ وہ سکھ مذہب سے دوری اختیار کر لئے۔اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سکھوں کی نسل کشی کی جارہی ہےجس کی وجہ سے امرت سنگھ نے سکھ ماؤں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بچے پیدا کرکے انہیں گورو کے نام پر وقف کریں۔

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بہت سے مواقع پر شری اکال تخت اور سکھ لیڈروں کی جانب سے گوردواروں کے اندر کرسیاں اور صوفے نہ رکھنے کی اجازت پر بھی مسئلہ اٹھایا جاچکا ہے۔اس کی وجہ نومبر 2013 میں، شری اکال تخت نے گوردواروں کے اندر کرسیوں، صوفوں اور اسی طرح کے بیٹھنے کے انتظامات کے حوالے سے ضابطے جاری کیے تھے اور اسے مقدس کتاب کی توہین قرار دیا تھا ۔ بعد ازاں اسی طرح 20 اپریل 1998 میں اس وقت کے جتھے دار بھائی رنجیت سنگھ نے سکھوں کے لنگر خانے کے اندر کرسیاں اور میز استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ مگر اکتوبر 1998 میں بیمار اور معذور افراد کےلیے لنگر خانے میں کرسی اور ٹیبل کے استعمال پر پابندی میں نرمی کردی گئی تھی۔

واضع رہے کہ امرت پال سنگھ کی اس جدوجہد کا نتیجہ نکلے گا بھی کہ نہیں‌؟ کیا خالصتان تحریک میں کوئی پیش رفت ہوگی یا پھرمذہبی کشیدگی کا فائدہ کوئی تیسری قوت اٹھائے گی؟ یہ خبر یں‌ بھی گر دش کر رہی ہیں‌کہ امرت پال سنگھ بھارتی ایجنسیوں کے اشارے پر ناچ رہا ہے ۔اگر یہ ہی صورتِ حال رہی تو ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اندرامرت پال سنگھ اورساتھیوں کی گرفتاریوں کا عمل شر وع ہو جائے بھارتی پنجاب کی ساخ مزید کمزور پڑ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں