عربی فاضل کی تدریس میں ایک بڑا نام ” نجمہ راؤ

زندگی کہاں آسان ہے یہ تو صرف کہنے کی بات ہے ، کبھی دھوپ میں جلتی ہے تو کبھی کسی سایہ دار درخت کی زینت بنتی ہےاورکہنے کو صرف زندگی ہے ۔ یہ زندگی عورت کے لئے کتنی مشکل ہے شاید یہ گمان کرنا بھی آسان نہیں۔ عورت کبھی ماں ، کبھی بیٹی ، کبھی بہو ، بیوی اور کبھی بہن کے رشتے کو نبھاتے نبھاتے اپنی جوانی کو بوڑھاپے کی دھلیز پر لے آتی ہے ۔

ہم روزِازل سے یہ بات سنتے آرہے ہیں کہ عورت جب ہمت پکڑنے پر آئے تو پھر شاید دُنیا بھی فتح کر لیتی ہےاوراُس گھڑی جو سکون ماں باپ کے کلیجے کو ملتا ہےاور دُنیا دیکھ کے رشک کر تی ہے کہ بیٹی ہو تو ایسی۔۔
آج ہم جس باصلاحیت خاتون کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں شاید انہی کے لئے کہا گیا ہے کہ وجودِ زن سے ہے تصویِر کائنات میں رنگ۔

کوئی نہیں جانتا تھاکہ راؤ عبدالغنی اور جمیلہ خاتون کے گھر پیدا ہونے والی نجمہ عربی فاضل کی ایسی استانی ثابت ہوگی جو اپنی تبلیغ سےایک ایسی روشنی پھیلائے گی جو تاریکی میں زندگی بسر کرنے والوں کے لئے ایک روشن سانس کی اُمید بنے گی ۔

محترمہ نجمہ راؤ ایک متوسط گھر انے میں پیدا ہوئی جہاں بہت سی خواہیشوں کو ابدی نیند سُلانا پڑتا ہے ۔ ان کے والد راؤ عبدالغنی پٹواری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق انسان اوربہتر ین نشانے باز تھے جبکہ ان کی والدہ جمیلہ خاتون ایک بارُعب شخصیت کی مالک تھیں جنہوں نے اپنی اُولاد پر وہ وقت بھی قربان کر دیا جس وقت میں عورت اپنے بناؤ سنگھارکر تی ہے اور پھراللہ نے ان دونوں کو اپنی رحمت سے نوازنے کا سوچا اوران کے ہاں محترمہ نجمہ راؤ جیسی بیٹی پیدا کی ۔

نجمہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے بہت شرراتی اور لاڈلی تھیں ۔ بے فکری سے اپنا بچپن گذارنے والی کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یتیمی کی زندگی بھی بسر کر نی پڑے گی ۔

تعلیمی میدان کی ایک قابل سٹوڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ نجمہ راؤ اکثر اسٹیج پر نظرآتی تھیں اور ہمیشہ نعت خوانی کے مقابلے میں اول انعام لیتی تھیں مگر شاید قسمت ابھی اور امتحان لینا چاہتی تھی اورپھرماں بھی کینسر جیسی موذی مر ض میں مبتلا ہو گیئں اور پھر ان کی زندگی بھی اپنے آخر ی سفر کی طرف روانہ ہوگی اوریوں زندگی سے لاڈ پیار کی آخری آس بھی ٹوٹ گی، پھر گذرتے وقت کی ساتھ ساتھ یہ یقین ہونے لگا کہ اللہ کے فیصلے ہم سے کہیں زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔

والدہ کی بیماری کی وجہ سے نجمہ راؤ اپنی تعلیم کو پورا وقت نہ دے سکیں اور تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا مگر اس وقت کو انہوں نے اپنے رب کے قر یب کر لیا اور پھر اللہ کے ہر فیصلے پر آمین کہنا شروع کر دیا۔

محترمہ نجمہ راؤ کا رتعلق کسی بہت امیر خاندان سے نہیں تھا مگر ہمت اور حوصلے کی ایک داستان رقم کر نے والی اس باصلاحیت خاتون نے کبھی بھی مالی حالات کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہ بنایا اور آگے بڑ ھنے کی جستجو نے انکو ایک ایسی خاتون بنایا جس نے اور میٹرک کےبعد پی ٹی سی کا کورس کیا اور انٹر میں داخلہ لے لیا اور اس کے ساتھ ساتھ پڑ ھائی کے خرچے بر داشت کرنے کے لئے شام کو ٹیوشن پڑھاتی کیونکہ یہ اپنے بھائی بھابھی کے ساتھ رہتی تھیں اور ان کے بھی وسائل بہت کم تھے۔ پڑھنے پڑھانے کی جسجتوتھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی اوریہ شوق ان کو عر بی فاضل کے کورس تک لے گیا اور پھر سرکاری خرچے پر پڑھا اور پھر ایسا پڑھا کہ 58 لڑ کیوں میں سے کامیابیوں کا چمکتا دمکتا سہرا نجمہ راؤ کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ ایک بارپھر قسمت نے دروازے پر دستک دی اور ملتان انٹر کالج سے کامیاب ٹرینئگ لی جو کہ کسی حد تک گھر والوں کو راضی کر نے کا کافی مشکل مر حلہ تھا مگر سچی لگن دیکھ کراللہ نے خود پوچھا “نجمہ بتا تری رضا کیا ہے ” اور پھر ایک معلمہ کی حیثیت سے تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گیئں اور ثابت کیا کہ مشکلیں اتنی پڑٰئیں کہ مجھ پہ آساں ہوگئیں۔ اور آج گورنمنٹ سکول چیچہ وطنی ساہیوال میں 16 درجے کی استاد ہے ۔

ان کی شادی ایک زمیندار گھرانے میں ہو ئی اور ان کے شوہر پیشے کے لحاظ سے ایک زمین دار ہیں اور ان کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو کہ میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہے ۔

محترمہ نجمہ صاحبہ کو شاعر ی سے بھی لگاؤ ہےاکثر فارغ اوقات میں لکھتی بھی ہیں ۔ زند گی کی تلخیوں سے لڑتے لڑتے زندگی کے حسین خوابوں کو پورا کر نے کے لئے کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدل جانے والی اور سکول کالج کے کیفے میں پیسوں کی کمی کی وجہ سے نہ جانے والی کی یہ خوبصورت داستان کئی زندگیاں بدلنے کے لئے کافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں